حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف/ مولانا سید فیضان حیدر جوادی، معروف فعالِ دینی اور مبلغ، جو ممبئی (ہندوستان) میں مقیم ہیں، اِن دنوں اربعینِ حسینی کے موقع پر نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ کی جانب پیدل سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے راستۂ نجف سے حوزہ نیوز کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اربعین صرف ایک مذہبی مراسم نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی تہذیبی تحریک ہے، جو انسان کو خدا، اہلِ بیت علیہم السلام، معاشرے اور پوری انسانیت کے ساتھ اپنے تعلق کو نئے انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اربعین کا سب سے بڑا پیغام معرفت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ امام حسینؑ نے انسان کو یہ سکھایا کہ ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ بصیرت، ذمہ داری اور قربانی شامل نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اربعین کا سفر لاکھوں انسانوں کو اپنے نفس کا محاسبہ کرنے اور اپنی زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
مولانا سید فیضان حیدر جوادی نے کہا کہ نجف سے کربلا تک کا راستہ دراصل ایک عملی درسگاہ ہے۔ یہاں انسان صبر، نظم، خدمت، بھائی چارہ، برداشت اور دوسروں کے احترام کو کتابوں سے نہیں بلکہ عملی زندگی میں دیکھتا ہے۔ مختلف زبانوں، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد جب ایک ہی مقصد کے تحت ساتھ چلتے ہیں تو یہ منظر اسلام کی آفاقی تعلیمات کا عملی تعارف بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اربعین نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام کا مکتب صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی انسانیت کی رہنمائی کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس عظیم اجتماع میں نہ کسی قوم کو برتری حاصل ہے، نہ کسی زبان کو اور نہ ہی کسی ملک کو، بلکہ معیار صرف محبتِ امام حسینؑ اور خدمتِ خلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو اربعین سے خاص طور پر سبق لینے کی ضرورت ہے۔ جدید دور میں فکری انتشار، مادہ پرستی اور اخلاقی بحران بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اربعین نوجوانوں کو مقصدِ حیات، کردار سازی، سماجی ذمہ داری اور دینی شناخت کا واضح شعور عطا کرتا ہے۔ اگر نوجوان اربعین کے پیغام کو سمجھ لیں تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کے مؤثر نمائندے بن سکتے ہیں۔
مولانا جوادی نے کہا کہ اربعین کا ایک اہم پہلو دعوت و تبلیغ بھی ہے۔ لاکھوں افراد ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مختلف معاشروں کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں۔ اس طرح اربعین عالمِ اسلام کے درمیان فکری، ثقافتی اور روحانی روابط کو مضبوط بنانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج دنیا ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے اربعین کے حقیقی پیغام کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ یہ اجتماع نفرت، تشدد یا انتہا پسندی کا نہیں بلکہ محبت، امن، ایثار، خدمت اور انسانی احترام کا عظیم ترین مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں بھی ظلم، استحصال اور انسانی حقوق کی پامالی ہوگی، وہاں کربلا کا پیغام زندہ رہے گا۔ امام حسینؑ نے کسی مخصوص گروہ کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے حق اور انصاف کا علم بلند کیا تھا، اسی لیے اربعین ہر آزاد انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا کسی بھی مہذب معاشرے کے شایانِ شان نہیں۔
انہوں نے زائرینِ اربعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر کو صرف زیارت تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے بعد بھی اپنی زندگی میں سچائی، دیانت، اخلاق، عبادت، خدمتِ خلق اور اجتماعی ذمہ داری کو مضبوط کیا جائے۔ اگر اربعین کے اثرات ہماری روزمرہ زندگی، ہمارے گھروں، معاشرے اور کردار میں نظر آئیں تو یہی اس عظیم عبادت کی حقیقی کامیابی ہوگی۔
آخر میں مولانا سید فیضان حیدر جوادی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام زائرین کی زیارات کو قبول فرمائے، امتِ مسلمہ میں اتحاد و اخوت کو فروغ دے، دنیا کے تمام مظلوموں کی مدد فرمائے اور ہمیں اہلِ بیت علیہم السلام کے راستے پر ثابت قدم رہتے ہوئے امام حسینؑ کے آفاقی پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔









آپ کا تبصرہ